نماز رکعت کیلکولیٹر

نماز اور مذہب منتخب کیجیے، رکعتیں فرض، سنتِ مؤکدہ، سنتِ غیر مؤکدہ، نفل اور وتر میں تقسیم ہو کر سامنے آ جائیں گی۔ چاروں مذاہب فرض کی ہر تعداد پر متفق ہیں اور باقی میں حقیقی اختلاف رکھتے ہیں، اس لیے ہر مذہب کے اپنے اعداد دیے گئے ہیں، کسی ایک کو «جواب» بنا کر پیش نہیں کیا گیا۔

کسی نماز کا حساب لگائیے

مذہب

فرض کی تعداد ہر مذہب میں ایک ہی ہے؛ بدلتا صرف اس کے آس پاس کا حصہ ہے۔

نماز

تفصیلفجر · حنفی

حکم: فرض
حصہرکعتیں
پہلے سنتِ مؤکدہ2
خود نماز — فرض2
کل رکعتیں4

جن میں لازم

2

جن میں نفلی

2

قراءت: جہری قراءت

اس مذہب کا مؤقف

فجر سے پہلے کی دو رکعتیں تمام سنتِ مؤکدہ میں سب سے مؤکد ہیں۔ اگر جماعت شروع ہو جانے کے بعد فرض میں شامل ہوا اور یہ رہ گئیں تو حنفی مذہب میں طلوعِ آفتاب کے بعد ظہر سے پہلے ان کی ادائیگی کی گنجائش ہے۔

خود کو آزمائیے

رکعتوں کی تعداد پر دس سوال، اوپر منتخب کردہ مذہب کے مطابق۔ آپ کا اسکور صرف اسی براؤزر میں محفوظ رہتا ہے۔

یہ دور

0

بہترین دور

0

کل دور

0

اسکور اسی براؤزر میں محفوظ ہوتے ہیں اور کہیں نہیں بھیجے جاتے۔ براؤزر کا ڈیٹا صاف کرنے سے یہ مٹ جاتے ہیں۔

چاروں مذاہب میں ہر نماز

ایک صف کو آڑا پڑھیے تو مذاہب کا موازنہ ہو جائے گا، اور ایک کالم کو نیچے تک پڑھیے تو ایک مذہب کا پورا دن سامنے آ جائے گا۔ عشاء کی صف میں وتر شامل ہیں، کیونکہ وتر عشاء کے بعد پڑھے جاتے ہیں۔

پورا نقشہ ایک صفحے پر پرنٹ ہوتا ہے: ہر نماز، ہر مذہب۔ نقل محفوظ رکھنے کے لیے پرنٹ ونڈو میں «Save as PDF» منتخب کیجیے۔

بارہ مؤکدہ رکعتیں، یا دس

پانچوں نمازوں کی سنتِ مؤکدہ کو جمع کرنا وہ پہلا فرق ہے جس سے لوگ ٹکراتے ہیں، اور یہ حقیقی فرق ہے۔

حنفی

12 رکعتیں

فجر سے پہلے دو، ظہر سے پہلے چار، ظہر کے بعد دو، مغرب کے بعد دو اور عشاء کے بعد دو: کل بارہ۔

شافعی

10 رکعتیں

فجر سے پہلے دو، ظہر سے پہلے دو، ظہر کے بعد دو، مغرب کے بعد دو اور عشاء کے بعد دو: کل دس۔ ظہر سے پہلے مزید دو، اس کے بعد دو، عصر سے پہلے چار، مغرب سے پہلے دو اور عشاء سے پہلے دو کی ترغیب ہے مگر یہ مؤکدہ نہیں۔

مالکی

2 رکعتیں

مالکی مذہب سنتِ مؤکدہ رواتب کی کوئی فہرست رکھتا ہی نہیں، اس لیے یہ عدد دوسرے مذاہب کی فہرست کا چھوٹا نمونہ نہیں۔ صرف فجر سے پہلے کی دو رکعتیں «رغیبہ» کے طور پر ممتاز ہیں، جو اس مذہب میں نفل کا سب سے اونچا درجہ ہے۔ فرض کے گرد باقی سب مستحب نفل ہے جس کی کوئی متعین تعداد نہیں۔

حنبلی

10 رکعتیں

فجر سے پہلے دو، ظہر سے پہلے دو، ظہر کے بعد دو، مغرب کے بعد دو اور عشاء کے بعد دو: کل دس، یعنی وہی فہرست جو شافعیہ کی ہے۔ عصر سے پہلے چار، مغرب سے پہلے دو، عشاء سے پہلے دو اور ظہر کے دونوں طرف مزید دو دو کی ترغیب ہے، تاکید نہیں۔

وتر: سب سے نمایاں اختلاف

وتر میں مذاہب پوری طرح جدا ہو جاتے ہیں — صرف رکعتوں کی تعداد میں نہیں، بلکہ اس میں بھی کہ انہیں چھوڑنا گناہ ہے یا نہیں۔

حنفی

واجب3 رکعتیں

واجب — فرض سے ذرا نیچے کا حکم، جن کی قضا لازم ہے۔ تین رکعتیں ایک سلام اور ایک آخری قعدے کے ساتھ ملی ہوئی، اور تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھا کر تکبیر کہنے کے بعد دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے۔

شافعی

سنتِ مؤکدہ3 رکعتیں

سنتِ مؤکدہ، واجب نہیں۔ کم از کم ایک رکعت اور زیادہ سے زیادہ گیارہ؛ عام عمل تین پر ہے، دو سلام کے ساتھ اور پھر ایک۔ رمضان کے دوسرے نصف میں آخری رکعت کے رکوع کے بعد قنوت پڑھی جاتی ہے۔

مالکی

سنتِ مؤکدہ3 رکعتیں

سنتِ مؤکدہ، اور صرف ایک رکعت۔ اس سے پہلے شفع ہے — الگ سلام کے ساتھ دو رکعتیں — چنانچہ کل تین پڑھی جاتی ہیں مگر دو نمازوں کی صورت میں، ایک نماز کی صورت میں نہیں۔ اس مذہب میں وتر میں قنوت نہیں؛ قنوت فجر میں ہے۔

حنبلی

سنتِ مؤکدہ3 رکعتیں

سنتِ مؤکدہ، اور نوافل میں سب سے مؤکد۔ ایک رکعت کافی ہے اور عام عمل تین پر ہے، دو پھر ایک۔ سال بھر آخری رکعت کے رکوع کے بعد قنوت پڑھی جاتی ہے۔

تراویح: آٹھ یا بیس

بیس رکعتیں چاروں مذاہب میں منقول عدد ہے۔ اس کی بنیاد وہ عمل ہے جو حضرت عمر بن الخطاب کے زمانے میں مسجدِ نبوی میں قائم ہوا اور وہاں اور حرمین میں صدیوں جاری رہا۔ مالکی کتابوں میں اہلِ مدینہ کا بعد کا چھتیس رکعتوں والا عمل بھی درج ہے۔

آٹھ رکعتیں اور اس کے بعد وتر — اس کی دلیل حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ رمضان میں اور رمضان کے باہر رات کو گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔ آج بہت سی مساجد کا یہی عمل ہے اور اہلِ علم نے اس کی تائید کی ہے۔

دونوں مؤقفوں کے حامی دلائل سے واقف ہیں اور کوئی بھی بدعت نہیں۔ تراویح ہر مذہب میں نفل ہیں، اس لیے تعداد کسی پر لازم نہیں: قیام کی طوالت اور خشوع گنتی سے زیادہ اہم ہیں۔ جس جماعت میں ہوں، اسی کے ساتھ پڑھیے۔

ہر رکعت میں کیا پڑھا جاتا ہے

ہر نماز کی ہر رکعت انہی ارکان سے اسی ترتیب میں گزرتی ہے۔ صرف فاتحہ کے بعد کی قراءت اور قعدے بدلتے ہیں۔

رکنکیا پڑھا جاتا ہے
1.قیامنیت دل کا فعل ہے؛ زبان سے کوئی صیغہ کہنا لازم نہیں۔
2.تکبیرِ تحریمہ«اللہ اکبر» ہاتھ اٹھا کر۔ اسی سے نماز شروع ہو جاتی ہے۔
3.ثنا«سبحانک اللہم…» یا «وجہت وجہی…» آہستہ۔ مالکی مذہب میں یہ نہیں پڑھی جاتی۔
4.تعوذ و تسمیہ«اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم» پھر «بسم اللہ الرحمن الرحیم»۔
5.سورۃ الفاتحہہر رکعت میں بلا استثنا پڑھی جاتی ہے۔
6.سورت یا چند آیاتصرف پہلی دو رکعتوں میں ملائی جاتی ہیں؛ قرآن کا جو حصہ آسان ہو کافی ہے۔
7.رکوع«اللہ اکبر» پھر رکوع میں: «سبحان ربی العظیم» تین بار۔
8.رکوع سے اٹھنااٹھتے ہوئے «سمع اللہ لمن حمدہ»، پھر کھڑے ہو کر «ربنا ولک الحمد»۔
9.پہلا سجدہ«اللہ اکبر» پھر سجدے میں: «سبحان ربی الاعلیٰ» تین بار۔
10.دو سجدوں کے درمیان جلسہ«اللہ اکبر» پھر «رب اغفر لی»۔
11.دوسرا سجدہ«اللہ اکبر» پھر «سبحان ربی الاعلیٰ» تین بار۔
12.اٹھنا«اللہ اکبر» اور اگلی رکعت کے لیے کھڑا ہونا — یا بیٹھنا، اگر یہ دوسری یا آخری رکعت تھی۔

قعدے اور اختتام

  • دوسری رکعت کے بعدبیٹھ کر تشہد پڑھنا: «التحیات للہ…»۔
  • دو رکعت والی نمازدرود اور دعا ملائیے، پھر سلام پھیر دیجیے۔
  • تیسری اور چوتھی رکعتصرف سورۃ الفاتحہ، اس کے بعد کوئی سورت نہیں۔ باقی سب ارکان جوں کے توں۔
  • آخری قعدہتشہد، درود، دعا، پھر دائیں اور بائیں «السلام علیکم ورحمۃ اللہ»۔

تفصیلات میں مذاہب کا فرق

  • رفع یدین: شافعی اور حنبلی رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت بھی ہاتھ اٹھاتے ہیں؛ حنفی اور مالکی صرف تکبیرِ تحریمہ میں۔
  • فجر کی قنوت: شافعی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد پڑھتے ہیں اور مالکی رکوع سے پہلے؛ حنفی اور حنبلی فجر میں قنوت نہیں پڑھتے سوائے نازلہ کے۔
  • بسم اللہ: حنفی اور حنبلی آہستہ پڑھتے ہیں، شافعی بلند آواز سے کیونکہ ان کے نزدیک وہ فاتحہ کا جزو ہے، اور مالکی فرض نماز میں اسے نہیں پڑھتے۔
  • قعدہ: شافعی اور حنبلی آخری تشہد میں تورک کرتے ہیں یعنی بایاں پاؤں نکال کر سرین زمین پر رکھتے ہیں؛ حنفی دونوں قعدوں میں یکساں بیٹھتے ہیں۔

یہ نماز کا خاکہ ہے، کسی استاد سے سیکھنے کا بدل نہیں۔ قراءت اس شخص سے سیکھیے جو آپ کا تلفظ درست کر سکے۔

جس پر تمام مذاہب متفق ہیں

فجر دو فرض، ظہر چار، عصر چار، مغرب تین اور عشاء چار۔ جمعہ دو اور عید دو۔ اس میں کوئی مذہب اختلاف نہیں کرتا، اور نہ کوئی مذہب نوافل کی بنا پر دوسرے کی نماز کو باطل کہتا ہے۔ اس صفحے کے اختلافات فرض کے گرد اضافوں اور وتر کے بارے میں ہیں، اور ان میں سے ہر ایک پرانا، مدلل اور اپنے مذہب کے اندر طے شدہ ہے۔

جہاں نماز پڑھیں، وہاں کے امام کی اتباع کیجیے

مساجد کا عمل اس مذہب اور مقامی رواج کے مطابق بدلتا ہے جس پر وہاں کے لوگ ہیں، اور اس صفحے کے اعداد مذاہب کو بیان کرتے ہیں، کسی خاص مسجد کو نہیں۔ جماعت میں امام کی اتباع ہوتی ہے۔ اگر آپ کی مسجد آٹھ رکعت تراویح پڑھتی ہے اور یہ صفحہ بیس دکھاتا ہے تو مسجد غلط نہیں، وہ ایک دوسرے معتبر مؤقف پر ہے۔ اپنا عمل بدلنے سے پہلے اپنے امام سے پوچھ لیجیے۔

عام سوالات

فجر میں کتنی رکعتیں ہیں؟

چاروں مذاہب میں دو فرض۔ ان سے پہلے دو سنتِ مؤکدہ پڑھی جاتی ہیں، یوں کل چار۔ یہ دو رکعتیں ہر مذہب میں دن بھر کی سب سے مؤکد نفل ہیں، اور حنفی مذہب میں اگر فرض جماعت میں شامل ہونے کی وجہ سے رہ جائیں تو طلوعِ آفتاب کے بعد ان کی قضا کی گنجائش ہے۔

ظہر میں کتنی رکعتیں ہیں؟

چاروں مذاہب میں چار فرض۔ نوافل ملا کر ہر مذہب میں کل بارہ بنتی ہیں، مگر ترکیب مختلف ہے: حنفی چار مؤکدہ پہلے اور دو بعد، پھر دو نفل؛ شافعی اور حنبلی دو مؤکدہ پہلے اور دو بعد، اور دونوں طرف مزید دو دو غیر مؤکدہ؛ جبکہ مالکی مذہب کوئی لازمی تعداد مقرر نہیں کرتا۔

عصر میں کتنی رکعتیں ہیں؟

چاروں مذاہب میں چار فرض۔ اس سے پہلے چار رکعتوں کی چاروں میں ترغیب ہے مگر کسی میں تاکید نہیں، اس لیے چھوڑنے پر کچھ لازم نہیں آتا؛ کل آٹھ۔ عصر کے بعد کچھ نہیں پڑھا جاتا: غروبِ آفتاب تک نفل سے رکا جاتا ہے۔

مغرب میں کتنی رکعتیں ہیں؟

چاروں مذاہب میں تین فرض — دن کی واحد نماز جس کے فرض طاق ہیں۔ اس کے بعد ہر جگہ دو سنتِ مؤکدہ ہیں۔ حنفی کل سات ہیں، جن میں دو نفل زائد شمار ہیں؛ شافعی اور حنبلی کل بھی سات ہیں، جن میں اذان اور اقامت کے درمیان دو ہلکی رکعتیں شمار ہوتی ہیں جو حنفی نہیں پڑھتے۔

عشاء میں کتنی رکعتیں ہیں؟

چاروں مذاہب میں چار فرض۔ کل تعداد میں بڑا فرق اس لیے ہے کہ وتر اس کے بعد پڑھے جاتے ہیں اور مذاہب ان کا درجہ مختلف بتاتے ہیں: مشہور حنفی نقشے میں سترہ، شافعی اور حنبلی میں گیارہ، مالکی میں نو۔ نوافل الگ کر دیں تو لازم ہر جگہ چار رکعتیں ہیں، اور تین مزید صرف حنفی مذہب میں واجب۔

وتر کی کتنی رکعتیں ہیں؟

حنفی مذہب میں تین، ایک سلام اور ایک آخری قعدے کے ساتھ ملا کر، اور یہ واجب ہیں — فرض سے ذرا نیچے کا حکم، جن کی قضا لازم ہے۔ باقی تین مذاہب انہیں سنتِ مؤکدہ کہتے ہیں۔ مالکی مذہب میں دو رکعت شفع الگ پڑھ کر ایک رکعت وتر پڑھی جاتی ہے، یوں تین تو ہیں مگر دو نمازوں کی صورت میں۔ شافعی اور حنبلی مذہب میں ایک رکعت بھی کافی ہے اور زیادہ سے زیادہ گیارہ، جبکہ عام عمل تین پر ہے۔

ان اعداد کے بارے میں

یہ تعدادیں ہر مذہب کی معتبر کتابوں کے مطابق ہیں۔ جہاں کسی مذہب میں ایک سے زیادہ عدد منقول ہے — جمعہ کی سنتوں میں حنفی اختلاف، تراویح میں مالکیہ کا چھتیس — وہاں کسی ایک کو ترجیح دینے کے بجائے دونوں دکھائے گئے ہیں۔ اس صفحے پر حدیث کے نمبر نقل نہیں کیے گئے: غلط حوالہ نہ ہونے سے بدتر ہے، اور یہاں کا ہر عدد اسی مذہب کی کتابوں میں جانچا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد پڑھیے