حیض اور نفاس کے دنوں کی نماز قضا نہیں کی جاتی۔ چاروں مذاہب اس پر متفق ہیں۔ روزے کا معاملہ اس کے برعکس ہے: رمضان کے چھوٹے ہوئے روزے قضا کیے جاتے ہیں، نمازیں نہیں۔ بہت سے لوگ یہ الٹ سمجھتے ہیں، اس لیے وہ دن نیچے معذوری کی مدت میں درج کریں تاکہ وہ کل سے منہا ہو جائیں۔
وتر: حنفی مذہب میں وتر واجب ہے، اس لیے اس کی قضا لازم ہے۔ جمہور علماء اسے سنتِ مؤکدہ کہتے ہیں اور اکثر اسے قضا کا دَین نہیں سمجھتے۔ وتر کا انتخاب اپنے مسلک کے مطابق کیجیے؛ یہ صفحہ دونوں میں سے کسی کو ترجیح نہیں دیتا۔
ترتیب: بعض اہلِ علم، بالخصوص حنفی مذہب میں، کہتے ہیں کہ فوت شدہ نمازیں اسی ترتیب سے پڑھی جائیں جس ترتیب سے چھوٹی تھیں۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ لزوم اُس وقت ساقط ہو جاتا ہے جب چھ یا اس سے زیادہ نمازیں ذمے ہوں، یا موجودہ نماز کا وقت تنگ ہو — چنانچہ جس کے ذمے برسوں کی نمازیں ہوں اس پر عموماً ترتیب لازم نہیں رہتی۔ شافعی اور حنبلی مؤقف میں کثرت کی صورت میں ترتیب مستحب ہے، لازم نہیں۔
جان بوجھ کر چھوڑی ہوئی نمازیں: جمہور علماء کے نزدیک ان کی قضا بھی لازم ہے اور سچی توبہ بھی۔ ایک قلیل تعداد — خاص طور پر ابنِ حزم اور ابنِ تیمیہ — نے کہا کہ جو نماز جان بوجھ کر وقت نکلنے تک چھوڑ دی گئی اس کی قضا ہی درست نہیں، بلکہ اس پر توبہ اور کثرتِ نوافل لازم ہے۔ یہ ٹول کسی ایک رائے کو ترجیح نہیں دیتا، صرف گنتی کرتا ہے۔
اگر آپ کا معاملہ غیر معمولی ہے — لمبی بیماری، بے ہوشی کی مدت، بڑی عمر میں قبولِ اسلام، یا بلوغت کے وقت کے بارے میں حقیقی شک — تو کسی مستند عالم سے رجوع کیجیے۔ اس صفحے پر کچھ بھی فتویٰ نہیں ہے۔